ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مظفرنگر:دلت-ٹھاکر تصادم ،15افرادزخمی،حالات کشیدہ

مظفرنگر:دلت-ٹھاکر تصادم ،15افرادزخمی،حالات کشیدہ

Fri, 08 Sep 2017 20:51:50    S.O. News Service

مظفر نگر،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں اعلیٰ ذاتوں کا دلتوں پر تشدد اب ایک عام بات ہو گئی ہے ۔ سہارن پور ضلع میں ہوئے تشدد کے شعلے ابھی تک ٹھنڈے نہیں ہوئے ہیں ۔ کوال میں ہوئے فساد کے بعد سرخیوں میں آئے مظفر نگر میں ایک بار پھر دلتوں اور ٹھاکروں کے درمیان تصادم ہوا،جس کے بعد ضلع کی فضا خراب ہوگئی ۔ دلتوں اور ٹھاکروں کے درمیان یہ تصادم تھانہ رتن پوری کے بھوپ کھیڑی گاؤں میں ہوا تھا ،فائرنگ میں تقریباً 15 افراد زخمی ہو گئے ۔ پولس نے ملزمان کی گرفتاریوں کے لئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہیجس کے سبب متعدد افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ گاؤں میں اس وقت خاموشی کا عالم ہے۔ دو فرقوں میں ہوئے تصادم سے آس پاس کے گاؤں میں بھی کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔تصویر سوشل میڈیاواضح رہے کہ بھوپ کھیڑی گاؤں میں دلتوں اور ٹھاکروں کے درمیان زبردست تصادم ہوا تھا ۔ حالات اتنے بے قابو ہو گئے تھے کہ رتن پوری ، بوڑھانہ ، ، شاہ پور، منصور پور، کھتولی اور پھگانا تھانوں کی پولس کو بھی بلانا پڑا۔ اے ڈی ایم (انتظامیہ )ہریش چندر، ایس پی دیہات اجے سہدیو اور سی او بوڑھانہ ہری رام یادو کو گھنٹوں گاؤں میں رہنا پڑا۔ مشتعل بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے پولس کو لاٹھی چارچ بھی کرنا پڑا۔اعلیٰ افسران کی ہدایت پر پولس نے فسادیوں کی دھر پکڑ کے لئے مہم چلائی جس کے سبب گاؤں میں ہاہاکار مچ گیا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ جائے وقوعہ کے آس پاس تصادم میں استعمال کئے گئے اینٹ اور پتھر نظر آ رہے تھے ۔کافی تعداد میں لوگ اپنے کھیتوں سے گھر لوٹنے کی بجائے گاؤں سے کہیں اور چلے گئے۔ گاؤں بھوپ کھیڑی میں اس وقت پولس اور پی اے سی کو تعینات کیا گیا ہے۔ دیر شام تک گاؤں میں خاموشی کو توڑتی ہوئی صرف سیکورٹی اہلکاروں کے جوتوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔


Share: